ہم پچھلے اسباق میں پڑھ چکے ہیں کہ فعل ایسے لفظ کو کہتے ہیں جس کا اپنا مستقل معنی ہو اور اُس میں کوئی زمانہ پایا جائے۔ مزید ہم فعلوں کی اقسام کے بارے میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ اب ہم ان تمام قسموں کو تفصیل میں پڑھیں گے۔
سب سے پہلے ہم فعل ماضی مطلق معروف پڑھیں گے۔ فعل ماضی ایسے فعل کو کہتے ہیں جس میں گزرا ہوا زمانہ پایا جائے۔ مطلق کسی آزاد چیز کو کہتے ہیں۔ یعنی فعل ماضی مطلق ایسا فعل ماضی ہے جس میں زمانے کی قربت اور دوری کا اندازہ نہ ہو۔ اس کا ترجمہ یوں ہو گا: ’’اُس نے لکھا‘‘۔ اس میں صرف اس چیز کا پتا چلتا ہے کہ یہ عمل ماضی میں انجام پایا لیکن اس چیز کا پتا نہیں چلتا کہ یہ عمل کب اختتام پذیر ہوا۔ ہم پڑھ چکے ہیں کہ فعل معروف ایسا فعل ہے جس میں فاعل کا علم ہو۔ یعنی فعل ماضی مطلق معروف ایسا فعل ہے جس میں گزرا ہوا زمانہ، بغیر قیدِ دوری و نزدیکی، ہو اور فاعل کا علم ہو۔
۲۰ اکتوبر ۲۰۱۲ کو ہم نے اسلامیات لازمی کی جماعت میں الفعل الماضي کی گردان پڑھی اور ۲۵ اکتوبر کو سنائی۔ اس دن کے بعد اسلامیات لازمی میں گرامر نہیں پڑھائی گئی کیونکہ یونیورسٹی نے نصاب بدل دیا۔ عربی کی جماعت میں ہم نے فعل ماضی کو ۱۷ نومبر سے شروع کیا اور پھر ۲۲ نومبر کو وہیں سے آگے بڑھایا۔ فعل کی گردانوں میں بھی ضمائر کی گردانوں کی طرح چودہ صیغے ہوتے ہیں۔ فعل ماضی معروف کی چند گردانیں مندرجہ ذیل ہیں۔