الفعل المعروف لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
الفعل المعروف لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 7 فروری، 2013

الفعل المضعّف

۴ جنوری کو استادِ محترم نے ہمیں بتایا کہ الفعل المضعّف ایسے فعل کو کہتے ہیں کہ جس میں ایک حرف دو بار آیا ہو اور انہیں جمع کر دیا گیا ہو۔ مثلاً: عَدَدَ سے عَدَّ، مرر سے مرّ، سدد سے سدّ، شدد سے شدّ۔

میں نے الفعل المضعّف کی ماضی معروف و مجہول اور مضارع معروف و مجہول کی جو گردانیں بنائیں، وہ ذیل میں بھی پڑھی جا سکتی ہیں اور پی۔ ڈی۔ ایف میں بھی۔ ان گردانوں کو صحیح طرح دیکھنے کے لیے آپ کے کمپیوٹر میں مندرجہ ذیل چار فانٹ ضرور نصب ہونے چاہئیں:

ہفتہ، 2 فروری، 2013

فعل مضارع

ہم فعل کی اقسام میں پڑھ چکے ہیں کہ الفعل المضارع ایسے فعل کو کہتے ہیں کہ جس میں حال اور مستقبل دونوں زمانے پائے جائیں۔ ۳۰ نومبر کو فعل ماضی مطلق مجہول اور فعل ماضی بعید معروف کی دہرائی کے بعد، ۱۳ دسمبر ۲۰۱۲ کو، استادِ محترم نے ہمیں فعل مضارع کے متعلق بتایا کہ اس میں زمانۂ حال اور زمانۂ مستقبل (دونوں) موجود ہوتے ہیں۔ استادِ محترم نے ہمیں بتایا کہ اس کی نشانی أتین (أ.ت.ي.ن) ہے یعنی فعل مضارع کے ہر صیغے میں ان چاروں میں سے کوئی ایک حرف استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً: أفعل (بفتحِ اوّل و سکون دوم و فتحِ سوم و ضمۂ چہارم)، یفعل، یضرب وغیرہ۔
استادِ محترم نے ہمیں فعل سے فعل مضارع (یفعل) کی گردان لکھوائی اور گھر سے چند گردانیں لکھ کر لانے کو کہا۔ اگلے دن (یعنی ۱۴ دسمبر ۲۰۱۲ْ) کو استادِ محترم نے عبد اور سمع کی فعل مضارع کی گردانیں بنانے کو کہا۔ میں نے جو گردانیں بنائیں، وہ ذیل میں بھی پڑھی جا سکتی ہیں اور پی۔ ڈی۔ ایف میں بھی۔ ان گردانوں کو صحیح طرح دیکھنے کے لیے آپ کے کمپیوٹر میں مندرجہ ذیل تین فانٹ ضرور نصب ہونے چاہئیں:

جمعرات، 24 جنوری، 2013

الفعل الماضي البعيد

ہم پڑھ چکے ہیں کہ فعل ماضی ایسے فعل کو کہتے ہیں جس میں گزرا ہوا زمانہ پایا جائے اور فعل ماضی قریب ایسے فعل کو کہتے ہیں جس میں قریب کا گزرا ہوا زمانہ پایا جائے۔ اسی طرح فعل ماضی بعید ایسے فعل کو کہتے ہیں جس میں دور کا گزرا ہوا زمانہ پایا جائے یعنی ایسا فعل جس کو ختم ہوئے کافی وقت گزر چکا ہو۔ مثلاً: میں نے لکھا تھا۔

عربی میں فعل ماضی کو فعل ماضی بعید بنانے کے لیے فعل سے قبل کان کا لفظ لگایا جاتا ہے۔ فعل ماضی قریب میں تو قد ہر صیغے میں اپنی شکل برقرار رکھتا ہے لیکن فعل ماضی بعید میں کان ہر صیغے کے لحاظ سے اپنی شکل تبدیل کرتا ہے۔ مثلاً:

منگل، 22 جنوری، 2013

الفعل الماضي القريب المعروف

بجائے اس کے کہ ہم فعل ماضی مطلق معروف کے بعد مجہول پڑھیں اور پھر قریب معروف اور قریب مجہول پڑھیں اور پھر اسی طرح بعید پڑھیں، ہم پہلے تمام افعالِ ماضی معروف پڑھیں گے تاکہ ہمیں یاد کرنے میں آسانی رہے۔ ہمارے اُستادِ محترم نے بھی ہمیں اسی ترتیب سے فعل کی گردانیں یاد کروائی تھیں۔

۲۹ نومبر ۲۰۱۲ کو اُستادِ محترم نے ہمیں بتایا کہ فعل ماضی قریب ایسے فعل کو کہتے ہیں کہ جس میں قریب کا گزرا ہوا زمانہ پایا جائے۔ فعل ماضی مطلق کو فعل ماضی قریب میں تبدیل کرنا بہت آسان ہے۔ اس کے لیے ہمیں ہر صیغے سے قبل صرف ’’قَد‘‘ کا اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ مثلاً:

پیر، 21 جنوری، 2013

الفعل الماضي المعروف

دو یوم قبل ہم نے فعل ماضی معروف کی، چند مختلف فعلوں کے ساتھ، گردانیں اس بلاگ پر شائع کیں۔ آج ہم انہیں دھرائیں گے۔

ذَهَبَ (وہ ایک مرد گیا)

ذَهَبتَ (تو ایک مرد گیا)

ذَهَبتُ لاهور (میں لاہور گیا)

۲۹ نومبر کو اُستادِ محترم نے ہمیں مندرجہ ذیل تین فعل لکھ کر دیئے اور ہم سے پوچھا کہ یہ کس صیغے سے ہیں۔

ہفتہ، 19 جنوری، 2013

فعل ماضی مطلق معروف

ہم پچھلے اسباق میں پڑھ چکے ہیں کہ فعل ایسے لفظ کو کہتے ہیں جس کا اپنا مستقل معنی ہو اور اُس میں کوئی زمانہ پایا جائے۔ مزید ہم فعلوں کی اقسام کے بارے میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ اب ہم ان تمام قسموں کو تفصیل میں پڑھیں گے۔

سب سے پہلے ہم فعل ماضی مطلق معروف پڑھیں گے۔ فعل ماضی ایسے فعل کو کہتے ہیں جس میں گزرا ہوا زمانہ پایا جائے۔ مطلق کسی آزاد چیز کو کہتے ہیں۔ یعنی فعل ماضی مطلق ایسا فعل ماضی ہے جس میں زمانے کی قربت اور دوری کا اندازہ نہ ہو۔ اس کا ترجمہ یوں ہو گا: ’’اُس نے لکھا‘‘۔ اس میں صرف اس چیز کا پتا چلتا ہے کہ یہ عمل ماضی میں انجام پایا لیکن اس چیز کا پتا نہیں چلتا کہ یہ عمل کب اختتام پذیر ہوا۔ ہم پڑھ چکے ہیں کہ فعل معروف ایسا فعل ہے جس میں فاعل کا علم ہو۔ یعنی فعل ماضی مطلق معروف ایسا فعل ہے جس میں گزرا ہوا زمانہ، بغیر قیدِ دوری و نزدیکی، ہو اور فاعل کا علم ہو۔

۲۰ اکتوبر ۲۰۱۲ کو ہم نے اسلامیات لازمی کی جماعت میں الفعل الماضي کی گردان پڑھی اور ۲۵ اکتوبر کو سنائی۔ اس دن کے بعد اسلامیات لازمی میں گرامر نہیں پڑھائی گئی کیونکہ یونیورسٹی نے نصاب بدل دیا۔ عربی کی جماعت میں ہم نے فعل ماضی کو ۱۷ نومبر سے شروع کیا اور پھر ۲۲ نومبر کو وہیں سے آگے بڑھایا۔ فعل کی گردانوں میں بھی ضمائر کی گردانوں کی طرح چودہ صیغے ہوتے ہیں۔ فعل ماضی معروف کی چند گردانیں مندرجہ ذیل ہیں۔