الفعل المضارع لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
الفعل المضارع لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 7 فروری، 2013

الفعل المضعّف

۴ جنوری کو استادِ محترم نے ہمیں بتایا کہ الفعل المضعّف ایسے فعل کو کہتے ہیں کہ جس میں ایک حرف دو بار آیا ہو اور انہیں جمع کر دیا گیا ہو۔ مثلاً: عَدَدَ سے عَدَّ، مرر سے مرّ، سدد سے سدّ، شدد سے شدّ۔

میں نے الفعل المضعّف کی ماضی معروف و مجہول اور مضارع معروف و مجہول کی جو گردانیں بنائیں، وہ ذیل میں بھی پڑھی جا سکتی ہیں اور پی۔ ڈی۔ ایف میں بھی۔ ان گردانوں کو صحیح طرح دیکھنے کے لیے آپ کے کمپیوٹر میں مندرجہ ذیل چار فانٹ ضرور نصب ہونے چاہئیں:

بدھ، 6 فروری، 2013

فعل مضارع مختص بہ مستقبل

۳ جنوری ۲۰۱۳ کو استادِ محترم نے ہمیں بتایا کہ اگر فعل مضارع سے قبل سوف یا س لگا دیں تو وہ مستقبل کے لیے خاص ہو جاتا ہے اور حال کے معنی نہیں دیتا۔ مثلاً:

  • سوف يسمع (وہ جلدی سنے گا)
  • سيسمع (وہ جلدی سنے گا)
  • سوف يضرب (وہ عنقریب مارے گا)


فعل مضارع مختص بہ حال

اسی طرح، اگر فعل مضارع سے پہلے لام (ل) لگا دیں تو وہ صرف حال کے لیے خاص ہو جاتا ہے اور پھر مستقبل کے معنی نہیں دیتا، جیسے لَيَضرِبُ (وہ مارتا ہے)، لَيَنصُرُ (وہ مدد کرتا ہے)۔

منگل، 5 فروری، 2013

فعل مضارع مجہول

ہم الفعل المضارع میں پڑھ چکے ہیں کہ فعل مضارع ایسے فعل کو کہتے ہیں کہ جس میں حال اور مستقبل (دونوں) زمانے پائے جائیں۔ مثلاً: یقتل (وہ قتل کرتا ہے یا وہ قتل کرے گا)۔ آج ہم فعل مضارع مجہول پڑھیں گے۔

۲۱ دسمبر ۲۰۱۲ کو استادِ محترم نے ہمیں گھر کے کام کے لیے چار افعال (يعرف۔ يدرس۔ يفتح۔ يلبس) کی گردانیں مضارع معروف میں بنانے کے لیے دیں۔ ۲۲ دسمبر کو انہوں نے ہمیں فعل مضارع مجہول بنانے کی ترکیب بتائی۔

استادِ محترم نے بتایا کہ جس طرح کسی بھی فعل ماضی کو مجہول بنانے کے لیے پہلے حرف پر پیش اور دوسرے حرف پر زیر لگا دیتے ہیں، اسی طرح، فعل مضارع کو مجہول بنانے کے لیے پہلے حرف پر پیش‘ دوسرے حرف پر جزم اور تیسرے حرف پر زبر لگا دیتے ہیں جبکہ چوتھے حرف کا اعراب برقرار رہتا ہے۔ مثلاً:

پیر، 4 فروری، 2013

دہرائی الفعل المضارع

۲۰ دسمبر کو استادِ محترم نے فعل مضارع کو دہرایا۔ انہوں نے تختۂ سبز پر مندرجہ ذیل تین الفاظ لکھے اور ان کے صیغے پوچھے۔

  1. يقراء – واحد مذکر غائب
  2. تدهب – واحد مؤنث غائب یا واحد مذکر حاضر
  3. يجلس – جمع مؤنث غائب


۲۱ دسمبر ۲۰۱۲ کو استادِ محترم نے مندرجہ ذیل جملے لکھے اور ان کے معنی بتائے۔

ہفتہ، 2 فروری، 2013

فعل مضارع

ہم فعل کی اقسام میں پڑھ چکے ہیں کہ الفعل المضارع ایسے فعل کو کہتے ہیں کہ جس میں حال اور مستقبل دونوں زمانے پائے جائیں۔ ۳۰ نومبر کو فعل ماضی مطلق مجہول اور فعل ماضی بعید معروف کی دہرائی کے بعد، ۱۳ دسمبر ۲۰۱۲ کو، استادِ محترم نے ہمیں فعل مضارع کے متعلق بتایا کہ اس میں زمانۂ حال اور زمانۂ مستقبل (دونوں) موجود ہوتے ہیں۔ استادِ محترم نے ہمیں بتایا کہ اس کی نشانی أتین (أ.ت.ي.ن) ہے یعنی فعل مضارع کے ہر صیغے میں ان چاروں میں سے کوئی ایک حرف استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً: أفعل (بفتحِ اوّل و سکون دوم و فتحِ سوم و ضمۂ چہارم)، یفعل، یضرب وغیرہ۔
استادِ محترم نے ہمیں فعل سے فعل مضارع (یفعل) کی گردان لکھوائی اور گھر سے چند گردانیں لکھ کر لانے کو کہا۔ اگلے دن (یعنی ۱۴ دسمبر ۲۰۱۲ْ) کو استادِ محترم نے عبد اور سمع کی فعل مضارع کی گردانیں بنانے کو کہا۔ میں نے جو گردانیں بنائیں، وہ ذیل میں بھی پڑھی جا سکتی ہیں اور پی۔ ڈی۔ ایف میں بھی۔ ان گردانوں کو صحیح طرح دیکھنے کے لیے آپ کے کمپیوٹر میں مندرجہ ذیل تین فانٹ ضرور نصب ہونے چاہئیں: