الفعل المجهول لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
الفعل المجهول لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 7 فروری، 2013

الفعل المضعّف

۴ جنوری کو استادِ محترم نے ہمیں بتایا کہ الفعل المضعّف ایسے فعل کو کہتے ہیں کہ جس میں ایک حرف دو بار آیا ہو اور انہیں جمع کر دیا گیا ہو۔ مثلاً: عَدَدَ سے عَدَّ، مرر سے مرّ، سدد سے سدّ، شدد سے شدّ۔

میں نے الفعل المضعّف کی ماضی معروف و مجہول اور مضارع معروف و مجہول کی جو گردانیں بنائیں، وہ ذیل میں بھی پڑھی جا سکتی ہیں اور پی۔ ڈی۔ ایف میں بھی۔ ان گردانوں کو صحیح طرح دیکھنے کے لیے آپ کے کمپیوٹر میں مندرجہ ذیل چار فانٹ ضرور نصب ہونے چاہئیں:

منگل، 5 فروری، 2013

فعل مضارع مجہول

ہم الفعل المضارع میں پڑھ چکے ہیں کہ فعل مضارع ایسے فعل کو کہتے ہیں کہ جس میں حال اور مستقبل (دونوں) زمانے پائے جائیں۔ مثلاً: یقتل (وہ قتل کرتا ہے یا وہ قتل کرے گا)۔ آج ہم فعل مضارع مجہول پڑھیں گے۔

۲۱ دسمبر ۲۰۱۲ کو استادِ محترم نے ہمیں گھر کے کام کے لیے چار افعال (يعرف۔ يدرس۔ يفتح۔ يلبس) کی گردانیں مضارع معروف میں بنانے کے لیے دیں۔ ۲۲ دسمبر کو انہوں نے ہمیں فعل مضارع مجہول بنانے کی ترکیب بتائی۔

استادِ محترم نے بتایا کہ جس طرح کسی بھی فعل ماضی کو مجہول بنانے کے لیے پہلے حرف پر پیش اور دوسرے حرف پر زیر لگا دیتے ہیں، اسی طرح، فعل مضارع کو مجہول بنانے کے لیے پہلے حرف پر پیش‘ دوسرے حرف پر جزم اور تیسرے حرف پر زبر لگا دیتے ہیں جبکہ چوتھے حرف کا اعراب برقرار رہتا ہے۔ مثلاً:

بدھ، 30 جنوری، 2013

فعل ماضی بعید مجہول

پچھلے ہفتے ہم نے الفعل الماضي البعيد کو معروف حالت میں پڑھا تھا۔ آج ہم اسے مجہول حالت میں پڑھیں گے۔ جس طرح ہم نے پچھلے اسباق میں فعل ماضی اور الفعل الماضي القريب کو معروف سے مجہول میں تبدیل کیا تھا، اُسی قاعدے کے تحت ہم ماضی بعید کو بھی معروف سے مجہول میں تبدیل کریں گے۔ مثلاً:

  • فعل ماضی بعید معروف: كانَ جَلَسَ (وہ بیٹھا تھا)
  • فعل ماضی بعید مجہول: كانَ جُلِسَ (وہ بٹھایا گیا تھا)

میں نے فعل ماضی بعید مجہول کی چند گردانیں بنائی ہیں جو ذیل میں بھی پڑھی جا سکتی ہیں اور پی۔ ڈی۔ ایف میں بھی۔ ان گردانوں کو صحیح طرح دیکھنے کے لیے آپ کے کمپیوٹر میں مندرجہ ذیل تین فانٹ ضرور نصب ہونے چاہئیں:

منگل، 29 جنوری، 2013

فعل ماضی قریب مجہول

کالج کی پریزنٹیشن اور اسائنمنٹ وغیرہ کی مصروفیات کی وجہ سے میں اسباق چڑھانا بھول گیا حالانکہ یہ تمام چیزیں میرے کمپیوٹر میں موجود تھیں۔

پچھلے ہفتے ہم نے الفعل الماضي القريب کو معروف حالت میں پڑھا تھا۔ آج ہم اسے مجہول حالت میں پڑھیں۔ جس طرح ہم نے پچھلے سبق میں فعل ماضی کو فعل ماضی مجہول میں تبدیل کیا تھا، اُسی قاعدے کے مطابق ہم فعل ماضی قریب معروف کو فعل ماضی قریب مجہول میں تبدیل کر سکتے ہیں۔  مثلاً:

جمعہ، 25 جنوری، 2013

الفعل الماضي المجهول

چند روز قبل ہم فعل ماضی کے بارے میں پڑھ چکے ہیں کہ یہ ایسا فعل ہے کہ جس میں گزرا ہوا زمانہ پایا جائے۔ فعل ماضی معروف ایسا فعل ماضی ہوتا ہے جس میں فاعل کا علم ہو جبکہ فعل ماضی مجہول ایسا فعل ماضی ہوتا ہے جس میں فاعل نامعلوم ہو۔

  • فعل ماضی معروف: قَتَلَ (اُس نے قتل کیا)
  • فعل ماضی مجہول: قُتِلَ (وہ قتل ہوا)

فعل ماضی معروف میں فعل کے پہلے اور آخری حرف پر زبر ہوتی ہے اور دوسرے حرف پر کوئی بھی اعراب ہو سکتا ہے جبکہ فعل ماضی مجہول میں ہمیشہ پہلے حرف پر پیش (یا ضمہ یا رفع)، دوسرے حرف پر زیر (یا کسرہ یا جر) اور تیسرے حرف پر زبر (یا فتح یا نصب) آتی ہے۔ یعنی فَعَلَ جب فعل ماضی مجہول میں تبدیل ہو گا تو فُعِلَ بن جائے گا۔

میں نے فعل ماضی مطلق مجہول کی چند گردانیں بنائی ہیں جو ذیل میں بھی پڑھی جا سکتی ہیں اور پی۔ ڈی۔ ایف میں بھی۔ ان گردانوں کو صحیح طرح دیکھنے کے لیے آپ کے کمپیوٹر میں مندرجہ ذیل تین فانٹ ضرور نصب ہونے چاہئیں: