اسم لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
اسم لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 22 مارچ، 2015

اسمائے مجرورہ

۱۵ اکتوبر، ۲۰۱۴، کو ہم نے اسمائے مجرورہ یعنی مجرورات کے بارے میں مختصراً پڑھا۔

اسمائے مجرورہ ایسے اسماء ہیں جن میں جر کی علامت موجود ہو۔ ان کی صرف دو قسمیں ہیں اور وہ مندرجہ ذیل ہیں۔

جمعرات، 19 مارچ، 2015

مرفوعات، منصوبات اور مجرورات

ہمارے نصاب میں سب سے پہلی چیز مرفوعات، منصوبات اور مجرورات تھے۔ تاہم، ہم نے سب سے پہلے یہی پڑھے۔

ہم ابتداء میں پڑھ چکے ہیں کہ حرکات کیا ہوتی ہیں۔ عمومی طور پر رفع اور پیش (یعنی ضمہ) میں، اور اسی طرح، نصب اور زبر (یعنی فتحہ) میں اور جر اور زیر (یعنی کسرہ) میں کوئی فرق نہیں کیا جاتا۔ بہر حال، نحویوں کے نزدیک اس میں تھوڑا سا فرق ہے۔ رفع، نصب اور جر اعراب ہیں جبکہ ضمہ، فتحہ اور کسرہ حرکات ہیں۔

پیر، 4 فروری، 2013

جملة میں فعل کی جمع

۱۴ دسمبر کو ہمارت استادِ محترم نے ہمیں بتایا کہ اگر جملۂ اسمیہ ہو تو فعل لازماً اسم کے حساب سے بدلے گا یعنی واحد اسم کے لیے واحد فعل، تثنیہ اسم کے لیے تثنیہ فعل اور جمع اسم کے لیے جمع فعل۔ مثلاً:

  • الطالب ينظر إلى السبورة (واحد اسم و واحد فعل)
  • الطلاب ينظرون إلى السبورة (واحد اسم و جمع فعل)

جبکہ جملۂ فعلیہ میں فعل کا اسم کے ساتھ بدلنا لازمی نہیں۔ مثلاً:

  • ينظر الطالب إلى السبورة (واحد فعل و واحد اسم)
  • ينظر الطلاب إلى السبورة (واحد فعل و جمع اسم)
  • ينظرون الطلاب إلى السبورة (جمع فعل و جمع اسم)

مندرجہ بالا تمام جملے درست ہیں۔ البتہ اہلِ زُبان جملۂ فعلیہ میں واحد فعل کا استعمال ہی زیادہ پسند کرتے ہیں اور اکثر اسی کو ترجیح دیتے ہیں۔

جمعرات، 3 جنوری، 2013

تذکیر و تانیث

باعتبارِ جنس، اسم دو قسم کے ہوتے ہیں:

  1. مذکر (مو ۔ ذَك ۔ کر)
  2. مؤنث (مو ۔ اَن ۔ نَس)

مذکر وہ اسم ہے جس میں علاماتِ تانیث نہ پائی جائیں۔ مثلاً: ولد، حصان وغیرہ۔

تانیث کی تین علامات ہیں:

  1. گول ت (ۃ)
  2. الف مقصورہ (یٰ)
  3. الف ممدودہ ( آء)

عربی میں مؤنث کی دو اقسام ہیں:

ہفتہ، 29 دسمبر، 2012

اسم‘ فعل اور حرف میں فرق

۱۸ اکتوبر کو ہمیں اسم‘ فعل اور حرف میں فرق بتایا گیا۔
اسم اور فعل بامعنی الفاظ ہوتے ہیں جبکہ حرف کا اپنا کوئی معنی نہیں ہوتا۔ حرف مختلف اسماء یا فعلوں کے ساتھ مل کر مختلف معنی دیتا ہے۔ حروفِ اشارہ کا ہم ذکر چکے ہیں۔ حروفِ استفہام اور حروفِ جارہ کے متعلق بعد میں پڑھا جائے گا۔
اگرچہ اسم اور فعل دونوں بامعنی الفاظ ہیں مگر اسم میں کوئی زمانہ موجود نہیں ہوتا جبکہ فعل میں زمانہ موجود ہوتا ہے۔ فعل کی چار اقسام ہوتی ہیں جن کے متعلق بعد میں پڑھا جائے گا۔ ان چار اقسام کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔

  1. فعل لازم
  2. فعل متعدی
  3. فعل معروف
  4. فعل مجہول

بدھ، 26 دسمبر، 2012

اجزائے کلام

اجزائے کلام کتنے ہیں؟

۱۲ اکتوبر کو ہمیں اجزائے کلام کے متعلق بتایا گیا۔ عربی میں تین اجزائے کلام ہیں:

  1. اسم
  2. فعل
  3. حرف

 

فعل کی تین اقسام ہیں:

  1. فعل ماضی
  2. فعل مضارع
  3. فعل امر

 

حرف کی تین اقسام ہیں:

  1. حروفِ جارہ
  2. حروفِ استفہام
  3. اسمِ اشارہ