ہر زُبان میں واحد اور جمع موجود ہوتے ہیں۔ جب کسی چیز کی تعداد ایک سے بڑھ جائے تو وہ جمع کے صیغے میں چلی جاتی ہے۔ لیکن عربی زُبان میں واحد اور جمع کے درمیان ایک اور صیغہ بھی ہے جسے تثنية کہتے ہیں۔ ۲ نومبر کو استادِ محترم نے ہمیں بتایا کہ واحد ایک شخص یا چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے، تثنیہ دو اشخاص یا دو چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ جمع دو سے زیادہ اشخاص یا دو سے زیادہ چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
۱۶ نومبر کو استادِ محترم نے ہمیں بتایا کہ جمع کی دو اقسام ہیں:
- جمع سالم
- جمع مکسر (یا مکسور)
جمع سالم وہ ہے کہ جس میں واحد کا وزن باقی رہے اور جو بھی زیادتی ہو وہ آخر میں ہو۔ مثلاً: مسلم سے مسلمون۔ جبکہ جمع مکسر وہ ہے کہ جس میں واحد کا وزن برقرار نہ رہے اور اصل لفظ میں کچھ نہ کچھ تبدیلی ہو جائے۔ مثلاً: رجل سے رجال، قلم سے اقلام وغیرہ۔
۲ نومبر کو استادِ محترم نے ہمیں بتایا کہ عربی میں اعراب کے لحاظ سے جمع کی تین مندرجہ ذیل حالتیں ہوتی ہیں: