الجمع لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
الجمع لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 2 اپریل، 2013

جمع مرکبات

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

امید کرتا ہوں کہ اب تک آپ لوگوں کو بخوبی علم ہو چکا ہو گا کہ مندرجہ ذیل جدولوں میں Muhammadi Quranic Bold (محمد قرآنک بولڈ) فونٹ استعمال ہوا ہے۔ تاہم‘ انہیں بہتر انداز میں دیکھنے کے لیے یا تو اپنے کمپیوٹر میں یہ فونٹ نصب کریں یا اس کی پی۔ ڈی۔ ایف دیکھیں۔

جمعرات، 21 مارچ، 2013

جمع

ہم الجمع کے سبق میں پڑھ چکے ہیں کہ جمع یا سالم ہوتا ہے یا مکسر۔ جمع سالم تو آسان ہے اور اس کا ایک ہی قاعدہ ہے مگر جمع مکسر کے لیے کافی قاعدے ہیں۔ چونکہ ابھی ہم ابتدائی درجہ پر ہیں، تاہم ہم ابھی ان قواعد سے نہیں الجھیں گے۔ اگر ہم قواعد کو کچھ دیر کے لیے چھوڑ دیں اور صرف یہ یاد رکھیں کہ بیت کی جمع بیوت ہے تو یہ ہمارے لیے آسان ہو گا۔ قواعد کو ہم، ان شاء اللہ، بعد میں تفصیل سے پڑھیں گے۔

میں نے جو جمع کا جدول بنایا ہے وہ مندرجہ ذیل ہے۔ اس کے الفاظ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی کتاب اللسان العربی (جو ہمیں پچھلے سمسٹر میں لگی تھی) کے چھٹے سبق (صفحہ نمبر ۷۷) سے لیے گئے ہیں۔ چونکہ اس سبق میں صرف واحد اور جمع مرفوع تھے، اس لیے مجھے جدول کو بناتے ہوئے کچھ زیادہ وقت لگ گیا۔ بہر حال، میں ایک بہن (جن کا تعلق عرب سے ہے) کا بے حد مشکور ہوں کہ انہوں نے اس پر نظرِ ثانی کی اور اس کی تصحیح کی۔ اس جدول میں صرف چند جمع سالم ہیں اور باقی تمام جمع مکسر ہیں کیونکہ جمع سالم بنانا آسان ہے اور اس کا ایک ہی قاعدہ ہے جبکہ جمع مکسر بنانا مشکل ہے اور اس کے مختلف قاعدے ہیں۔  یہ جدول پی۔ ڈی۔ ایف میں بھی دستیاب ہے۔

پیر، 4 فروری، 2013

جملة میں فعل کی جمع

۱۴ دسمبر کو ہمارت استادِ محترم نے ہمیں بتایا کہ اگر جملۂ اسمیہ ہو تو فعل لازماً اسم کے حساب سے بدلے گا یعنی واحد اسم کے لیے واحد فعل، تثنیہ اسم کے لیے تثنیہ فعل اور جمع اسم کے لیے جمع فعل۔ مثلاً:

  • الطالب ينظر إلى السبورة (واحد اسم و واحد فعل)
  • الطلاب ينظرون إلى السبورة (واحد اسم و جمع فعل)

جبکہ جملۂ فعلیہ میں فعل کا اسم کے ساتھ بدلنا لازمی نہیں۔ مثلاً:

  • ينظر الطالب إلى السبورة (واحد فعل و واحد اسم)
  • ينظر الطلاب إلى السبورة (واحد فعل و جمع اسم)
  • ينظرون الطلاب إلى السبورة (جمع فعل و جمع اسم)

مندرجہ بالا تمام جملے درست ہیں۔ البتہ اہلِ زُبان جملۂ فعلیہ میں واحد فعل کا استعمال ہی زیادہ پسند کرتے ہیں اور اکثر اسی کو ترجیح دیتے ہیں۔

جمعہ، 1 فروری، 2013

الجمع

ہر زُبان میں واحد اور جمع موجود ہوتے ہیں۔ جب کسی چیز کی تعداد ایک سے بڑھ جائے تو وہ جمع کے صیغے میں چلی جاتی ہے۔ لیکن عربی زُبان میں واحد اور جمع کے درمیان ایک اور صیغہ بھی ہے جسے تثنية کہتے ہیں۔ ۲ نومبر کو استادِ محترم نے ہمیں بتایا کہ واحد ایک شخص یا چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے، تثنیہ دو اشخاص یا دو چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ جمع دو سے زیادہ اشخاص یا دو سے زیادہ چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

۱۶ نومبر کو استادِ محترم نے ہمیں بتایا کہ جمع کی دو اقسام ہیں:

  1. جمع سالم
  2. جمع مکسر (یا مکسور)

جمع سالم وہ ہے کہ جس میں واحد کا وزن باقی رہے اور جو بھی زیادتی ہو وہ آخر میں ہو۔ مثلاً: مسلم سے مسلمون۔ جبکہ جمع مکسر وہ ہے کہ جس میں واحد کا وزن برقرار نہ رہے اور اصل لفظ میں کچھ نہ کچھ تبدیلی ہو جائے۔ مثلاً: رجل سے رجال، قلم سے اقلام وغیرہ۔

۲ نومبر کو استادِ محترم نے ہمیں بتایا کہ عربی میں اعراب کے لحاظ سے جمع کی تین مندرجہ ذیل حالتیں ہوتی ہیں: