جمع سالم لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
جمع سالم لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعرات، 21 مارچ، 2013

جمع

ہم الجمع کے سبق میں پڑھ چکے ہیں کہ جمع یا سالم ہوتا ہے یا مکسر۔ جمع سالم تو آسان ہے اور اس کا ایک ہی قاعدہ ہے مگر جمع مکسر کے لیے کافی قاعدے ہیں۔ چونکہ ابھی ہم ابتدائی درجہ پر ہیں، تاہم ہم ابھی ان قواعد سے نہیں الجھیں گے۔ اگر ہم قواعد کو کچھ دیر کے لیے چھوڑ دیں اور صرف یہ یاد رکھیں کہ بیت کی جمع بیوت ہے تو یہ ہمارے لیے آسان ہو گا۔ قواعد کو ہم، ان شاء اللہ، بعد میں تفصیل سے پڑھیں گے۔

میں نے جو جمع کا جدول بنایا ہے وہ مندرجہ ذیل ہے۔ اس کے الفاظ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کی کتاب اللسان العربی (جو ہمیں پچھلے سمسٹر میں لگی تھی) کے چھٹے سبق (صفحہ نمبر ۷۷) سے لیے گئے ہیں۔ چونکہ اس سبق میں صرف واحد اور جمع مرفوع تھے، اس لیے مجھے جدول کو بناتے ہوئے کچھ زیادہ وقت لگ گیا۔ بہر حال، میں ایک بہن (جن کا تعلق عرب سے ہے) کا بے حد مشکور ہوں کہ انہوں نے اس پر نظرِ ثانی کی اور اس کی تصحیح کی۔ اس جدول میں صرف چند جمع سالم ہیں اور باقی تمام جمع مکسر ہیں کیونکہ جمع سالم بنانا آسان ہے اور اس کا ایک ہی قاعدہ ہے جبکہ جمع مکسر بنانا مشکل ہے اور اس کے مختلف قاعدے ہیں۔  یہ جدول پی۔ ڈی۔ ایف میں بھی دستیاب ہے۔

جمعہ، 1 فروری، 2013

الجمع

ہر زُبان میں واحد اور جمع موجود ہوتے ہیں۔ جب کسی چیز کی تعداد ایک سے بڑھ جائے تو وہ جمع کے صیغے میں چلی جاتی ہے۔ لیکن عربی زُبان میں واحد اور جمع کے درمیان ایک اور صیغہ بھی ہے جسے تثنية کہتے ہیں۔ ۲ نومبر کو استادِ محترم نے ہمیں بتایا کہ واحد ایک شخص یا چیز کے لیے استعمال ہوتا ہے، تثنیہ دو اشخاص یا دو چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ جمع دو سے زیادہ اشخاص یا دو سے زیادہ چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

۱۶ نومبر کو استادِ محترم نے ہمیں بتایا کہ جمع کی دو اقسام ہیں:

  1. جمع سالم
  2. جمع مکسر (یا مکسور)

جمع سالم وہ ہے کہ جس میں واحد کا وزن باقی رہے اور جو بھی زیادتی ہو وہ آخر میں ہو۔ مثلاً: مسلم سے مسلمون۔ جبکہ جمع مکسر وہ ہے کہ جس میں واحد کا وزن برقرار نہ رہے اور اصل لفظ میں کچھ نہ کچھ تبدیلی ہو جائے۔ مثلاً: رجل سے رجال، قلم سے اقلام وغیرہ۔

۲ نومبر کو استادِ محترم نے ہمیں بتایا کہ عربی میں اعراب کے لحاظ سے جمع کی تین مندرجہ ذیل حالتیں ہوتی ہیں: